Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 53. An-Najm · Ayah 29

Tafseer
  1. فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴿29﴾

    1. فَاَعْرِضْتو اعراض برتیئے
    2. عَنْ مَّنْ تَوَلّٰىاس سے جو منہ موڑے
    3. عَنْ ذِكْرِنَاہمارے ذکر سے
    4. وَلَمْ يُرِدْاور نہ چاہے وہ
    5. اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَامگر دنیا کی زندگی
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے نبیؐ ، جو شخص ہمارے ذکر سےمنہ پھیرتا ہے، 24 اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اسے  اس کے حال پر چھوڑدو25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّجْم 24 ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے، محض نصیحت بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے۔ سورة النَّجْم 25 یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ کیونکہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اور جس میں اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں۔ سورة النَّجْم 26 یہ جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر پچھلی بات کی تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 53 : 29