تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 15
وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ﴿15﴾
- وَلَقَدْ تَّرَكْنٰهَآاور البتہ تحقیق چھوڑ دیا ہم نے اس کو
- اٰيَةًایک نشانی کے طور پر
- فَهَلْتو کیا
- مِنْ مُّدَّكِرٍہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دی 14 ا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 14
یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم نے اس عقوبت کو ایک نشان عبرت بنا کر چھوڑ دیا۔ لیکن ہمارے نزدیک زیادہ قابل ترجیح معنی یہ ہیں کہ اس کشتی کو نشان عبرت بنادیا گیا۔ ایک بلند وبالا پہاڑ پر اس کا موجود ہونا سینکڑوں ہزاروں برس تک لوگوں کو خدا کے غضب سے خبردار کرتا رہا اور انہیں یاد دلاتا رہا کہ اس سر زمین پر خدا کی نافرمانی کرنے والوں کی کیسی شامت آئی تھی اور ایمان لانے والوں کو کس طرح اس سے بچایا گیا تھا۔ امام بخاری، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق اور ابن جریر نے قتادہ سے یہ روایات نقل کی ہیں کہ مسلمانوں کی فتح عراق والجزیرہ کے زمانے میں یہ کشتی جودی پر (اور ایک روایت کے مطابق باقردیٰ نامی بستی کے قریب) موجود تھی اور ابتدائی دور کے اہل اسلام نے اس کو دیکھا تھا۔ موجودہ زمانے میں بھی ہوائی جہازوں سے پرواز کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اس علاقے کی ایک چوٹی پر ایک کشتی نما چیز پڑی دیکھی ہے جس پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ سفینہ نوح ہے، اور اسی بنا پر وقتاً فوقتاً اس کی تلاش کے لیے مہمات جاتی رہی ہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 47، ہود، حاشیہ 46۔ جلد سوم، العنکبوت، حاشیہ 25)۔