Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 19

  1. اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ﴿19﴾

    1. اِنَّآبیشک ہم نے
    2. اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
    3. عَلَيْهِمْان پر
    4. رِيْحًاایک ہوا کو
    5. صَرْصَرًاتند۔ تیز
    6. فِيْ يَوْمِ نَحْسٍنحوست کے ایک دن
    7. مُّسْتَمِرٍّمستقل۔ مسلسل
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن 16 سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر اِس طرح پھینک رہی تھی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 16 یعنی ایک ایسے دن جس کی نحوست کئی روز تک مسلسل جاری رہی۔ سورة حٰم لسجدہ، آیت 16 میں فِیْ اَیَّامٍ نَّحِسٰتٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اور سورة الحاقہ آیت 7 میں فرمایا گیا ہے کہ ہوا کا یہ طوفان مسلسل سات رات اور آٹھ دن جاری رہا۔ مشہور یہ ہے کہ جس دن یہ عذاب شروع ہوا وہ بدھ کا دن تھا۔ اسی سے لوگوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ بدھ کا دن منحوس ہے اور کوئی کام اس دن شروع نہ کرنا چاہیے۔ بعض نہایت ضعیف احادیث بھی اس سلسلے میں نقل کی گئی ہیں جن سے اس دن کی نحوست کا عقیدہ عوام کے ذہن میں بیٹھ گیا ہے۔ مثلاً اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر (مہینے کا آخری بدھ منحوس ہے جس کی نحوست مسلسل جاری رہتی ہے)۔ ابن جوزی اسے موضوع کہتے ہیں۔ ابن رجب نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ حافظ سخاوی کہتے ہیں کہ جتنے طریقوں سے یہ منقول ہوئی ہے وہ سب واہی ہیں۔ اسی طرح طبرانی کی اس روایت کو بھی محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے کہ یوم الاربعاء یوم نحس مستمر (بدھ کا دن پیہم نحوست کا دن ہے۔) بعض اور روایات میں یہ باتیں بھی مروی ہیں کہ بدھ کو سفر نہ کیا جائے، لین دین نہ کیا جائے، ناخن نہ کٹوائے جائیں، مریض کی عیادت نہ کی جائے، اور یہ کہ جذام اور برص اسی روز شروع ہوتے ہیں۔ مگر یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان پر کسی عقیدے کی بنا نہیں رکھی جاسکتی۔ محقق مناوی کہتے ہیں توقی الاربعاء علی جھۃ الطیرۃ و ظن اعتقاد المنجمین حرام شدید التحریم، اذا الایام کلھا للہ تعالیٰ ، لا تنفع ولا تضر بذا تھا، " بد فالی کے خیال سے بدھ کے دن کو منحوس سمجھ کر چھوڑنا اور نجومیوں کے سے اعتقادات اس باب میں رکھنا حرام، سخت حرام ہے، کیونکہ سارے دن اللہ کے ہیں، کوئی دن بذات خود نہ نفع پہنچانے والا ہے نہ نقصان " علامہ آلوسی کہتے ہیں " سارے دن یکساں ہیں، بدھ کی کوئی تخصیص نہیں۔ رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہے جو کسی کے لیے اچھی اور کسی دوسرے کے لیے بری نہ ہو۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کسی کے لیے موافق اور کسی کے لیے ناموافق حالات پیدا کرتا رہتا ہے "۔