Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 24

Tafseer
  1. فَقَالُوْۤا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ﴿24﴾

    1. فَقَالُوْٓاتو انہوں نے کہا
    2. اَبَشَرًا مِّنَّاکیا ایک انسان ہے ہم میں سے
    3. وَاحِدًاایک ہی
    4. نَّتَّبِعُهٗٓ ۙہم پیروی کریں اس کی
    5. اِنَّآ اِذًابیشک ہم تب
    6. لَّفِيْ ضَلٰلٍالبتہ گمراہی میں ہوں گے
    7. وَّسُعُرٍاور جنون میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کہنے لگے”ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ 17 اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں  تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 17 بالفاظ دیگر، حضرت صالح کی پیروی سے ان کا انکار تین وجوہ سے تھا۔ ایک یہ کہ وہ بشر ہیں، انسانیت سے بالاتر نہیں ہیں کہ ہم انکی بڑائی مان لیں۔ دوسرے یہ کہ وہ ہماری اپنی ہی قوم کے ایک فرد ہیں۔ ہم پر ان کی فضیلت کی کوئی وجہ نہیں۔ تیسرے یہ کہ اکیلے ہیں، ہمارے عام آدمیوں میں سے ایک آدمی ہیں، کوئی بڑے سردار نہیں ہیں جس کے ساتھ کوئی بڑا جتھا ہو، لاؤ لشکر ہو، خَدَم و حشم ہوں، اور اس بنا پر ہم ان کی بڑائی تسلیم کرلیں۔ وہ چاہتے تھے کہ نبی یا تو کوئی فوق البشر ہستی ہو، یا اگر وہ انسان ہی ہو تو ہمارے اپنے ملک اور قوم میں پیدا نہ ہوا ہو، بلکہ کہیں اوپر سے اتر کر آئے یا باہر سے بھیجا جائے، اور اگر یہ بھی نہیں تو کم از کم اسے کوئی رئیس ہونا چاہیے جس کی غیر معمولی شان و شوکت کی وجہ سے یہ مان لیا جائے کہ رہنمائی کے لیے خدا کی نظر انتخاب اس پر پڑی ہے۔ یہی وہ جہالت تھی جس میں کفار مکہ مبتلا تھے۔ محمد ﷺ کی رسالت ماننے سے ان کا انکار بھی اسی بنیاد پر تھا کہ آپ بشر ہیں عام آدمیوں کی طرح بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں، کل ہمارے ہی درمیان پیدا ہوئے اور آج یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجھے خدا نے نبی بنایا ہے۔