Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 3

  1. وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ﴿3﴾

    1. وَكَذَّبُوْااور انہوں نے جھٹلایا
    2. وَاتَّبَعُوْٓااور پیروی کی
    3. اَهْوَآءَهُمْاپنی خواہشات کی
    4. وَكُلُّاور ہر
    5. اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّکام کا وقت مقرر ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلادیا اور اپنی خواہشاتِ نفس ہی کی پیروی کی۔ 3 ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ 4
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 3 یعنی جو فیصلہ انہوں نے قیامت کو نہ ماننے کا کر رکھا ہے، اس نشانی کو دیکھ کر بھی یہ اسی پر جمے رہے۔ قیامت کو مان لینا چونکہ ان کی خواہشات نفس کے خلاف تھا اس لیے صریح مشاہدے کے بعد بھی یہ اسے تسلیم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ سورة الْقَمَر 4 مطلب یہ ہے کہ یہ سلسلہ بلا نہایت نہیں چل سکتا کہ محمد ﷺ تمہیں حق کی طرف بلاتے رہیں، اور تم ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے باطل پر جمے رہو، اور ان کا حق پر ہونا اور تمہارا باطل پر ہونا کبھی ثابت نہ ہو۔ تمام معاملات آخر کار ایک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں، اسی طرح تمہاری اور محمد ﷺ کی اس کشمکش کا بھی لا محالہ ایک انجام ہے جس پر یہ پہنچ کر رہے گی۔ ایک وقت لازماً ایسا آنا ہے جب علی الاعلان یہ ثابت ہوجائے گا کہ وہ حق پر تھے اور تم سراسر باطل کی پیروی کر رہے تھے۔ اسی طرح حق پرست اپنی حق پرستی کا، اور باطل پرست اپنی باطل پرستی کا نتیجہ بھی ایک دن ضرور دیکھ کر رہیں گے۔