Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 37

Tafseer
  1. وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ﴿37﴾

    1. وَلَقَدْ رَاوَدُوْهُاور البتہ تحقیق انہوں نے بہلایا اس کو
    2. عَنْ ضَيْفِهٖاس کے مہمانوں سے
    3. فَطَمَسْنَآ اَعْيُنَهُمْتو موند ڈالیں ہم نے ان کی آنکھیں
    4. فَذُوْقُوْاتو چکھو
    5. عَذَابِيْ وَنُذُرِعذاب میر اور ڈراوے میرے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا۔ 22
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 22 اس قصے کی تفصیلات سورة ہود (آیات 77 تا 83) اور سورة حجر (آیات 61 تا 74) میں گزر چکی ہیں۔ خلاصہ ان کا یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ فرمایا تو چند فرشتوں کو نہایت خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط کے ہاں مہمان کے طور پر بھیج دیا۔ ان کی قوم کے لوگوں نے جب دیکھا کہ ان کے ہاں ایسے خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ ان کے گھر پر چڑھ دوڑے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالہ کردیں۔ حضرت لوط نے ان کی بےانتہا منت سماجت کی کہ وہ اس ذلیل حرکت سے باز رہیں۔ مگر وہ نہ مانے اور گھر میں گھس کر زبردستی مہمانوں کو نکال لینے کی کوشش کی۔ اس آخری مرحلے پر یکایک ان کی آنکھیں اندھی ہوگئیں۔ پھر فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ وہ اور ان کے گھر والے صبح ہونے سے پہلے اس بستی سے نکل جائیں، اور ان کے نکلتے ہی اس قوم پر ایک ہولناک عذاب نازل ہوگیا۔ بائیبل میں بھی یہ واقعہ اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں " تب وہ اس مرد یعنی لوط پر پل پڑے اور نزدیک آئے تاکہ کواڑ توڑ ڈالیں۔ لیکن ان مردوں (یعنی فرشتوں) نے اپنے ہاتھ بڑھا کر لوط کو اپنے پاس گھر میں کھینچ لیا اور دروازہ بند کردیا اور ان مردوں کو جو گھر کے دروازے پر تھے، کیا چھوٹے کیا بڑے، اندھا کردیا، سو وہ دروازہ ڈھونڈھتے ڈھونڈتے تھک گئے " (پیدائش، 199۔ 11)۔