Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 54. Al-Qamar · Ayah 7

  1. خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ﴿7﴾

    1. خُشَّعًاجھکی ہوئی ہوں گی
    2. اَبْصَارُهُمْان کی نگاہیں
    3. يَخْرُجُوْنَنکلیں گے
    4. مِنَ الْاَجْدَاثِقبروں سے
    5. كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
    6. جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ 7 اپنی قبروں سے 8 اِس طرح نکلیں گے  گویا وہ بکھری ہوئی ٹِڈیاں ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقَمَر 7 اصل الفاظ ہیں خُشَّعاً اَبصَارُھُمْ ، یعنی ان کی نگاہیں خشوع کی حالت میں ہوں گی۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان پر خوف زدگی طاری ہوگی۔ دوسرے یہ کہ ذلت اور ندامت ان سے جھلک رہی ہوگی کیونکہ قبروں سے نکلتے ہی انہیں محسوس ہوجائے گا کہ یہ وہی دوسری زندگی ہے جس کا ہم انکار کرتے تھے، جس کے لیے کوئی تیاری کر کے ہم نہیں آئے ہیں، جس میں اب مجرم کی حیثیت سے ہمیں اپنے خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ گھبرائے ہوئے اس ہولناک منظر کو دیکھ رہے ہوں گے جو ان کے سامنے ہوگا، اس سے نظر ہٹانے کا انہیں ہوش نہ ہوگا۔ سورة الْقَمَر 8 قبروں سے مراد وہی قبریں نہیں ہیں جن میں کسی شخص کو زمین کھود کر باقاعدہ دفن کیا گیا ہو۔ بلکہ جس جگہ بھی کوئی شخص مرا تھا، یا جہاں بھی اس کی خاک پڑی ہوئی تھی، وہیں سے وہ محشر کی طرف پکارنے والے کی ایک آواز پر اٹھ کھڑا ہوگا۔