Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 55. Ar-Rahmaan · Ayah 28

Tafseer
  1. فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴿28﴾

    1. فَبِاَيِّ اٰلَآءِتو ساتھ کون سی نعمتوں کے
    2. رَبِّكُمَااپنے رب کی تم دونوں
    3. تُكَذِّبٰنِتم دونوں جھٹلاؤ گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے جِنّ و اِنس، تم اپنے رب کے  کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟ 26
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّحْمٰن 26 یہاں موقع و محل خود بتارہا ہے کہ آلاء کا لفظ کمالات کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فانی مخلوقات میں سے جو کوئی بھی کبریائی کے زعم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور اپنی جھوٹی خدائی کو لازوال سمجھ کر اینٹھتا اور اکڑتا ہے وہ اگر زبان سے نہیں تو اپنے عمل سے ضرور رب العالمین کی عظمت و جلالت کو جھٹلاتا ہے۔ اس کا غرور بجائے خود اللہ کی کبریائی کی تکذیب ہے۔ جو دعویٰ بھی وہ کسی کمال کا اپنی زبان سے کرتا ہے یا جس کا ادعا اپنے نفس میں رکھتا ہے، وہ اصل صاحب کمال کے مقام و منصب کا انکار ہے۔