تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 55. Ar-Rahmaan · Ayah 29
Tafseerیَسْئَلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ﴿29﴾
- يَسْئَلُهٗمانگتے ہیں اس سے
- مَنْجو بھی
- فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں ہیں
- وَالْاَرْضِ ۭاور زمین میں
- كُلَّ يَوْمٍہر روز
- هُوَ فِيْ شَاْنٍوہ نئی شان میں ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حا جتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں۔ ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّحْمٰن 27
یعنی ہر وقت اس کار گاہ عالم میں اس کی کارفرمائی کا ایک لا متناہی سلسلہ جاری ہے، کسی کو مار رہا ہے اور کسی کو جلا رہا ہے۔ کسی کو اٹھا رہا ہے اور کسی کو گرا رہا ہے۔ کسی کو شفا دے رہا ہے اور کسی کو بیماری میں مبتلا کر رہا ہے۔ کسی ڈوبتے کو بچا رہا ہے اور کسی تیرتے کو ڈبو رہا ہے۔ بیشمار مخلوقات کو طرح طرح سے رزق دے رہا ہے۔ بےحد و حساب چیزیں نئی سے نئی وضع اور شکل اور اوصاف کے ساتھ پیدا کر رہا ہے۔ اس کی دنیا کبھی ایک حال پر نہیں رہتی۔ ہر لمحہ اس کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور اس کا خالق ہر بار اسے ایک نئی صورت سے ترتیب دیتا ہے جو پچھلی تمام صورتوں سے مختلف ہوتی ہے۔