Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 56. Al-Waaqia · Ayah 62

Tafseer
  1. وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ﴿62﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
    2. عَلِمْتُمُجان لیا تم نے
    3. النَّشْاَةَ الْاُوْلٰىپہلی دفعہ کی پیدائش کو
    4. فَلَوْلَا تَذَكَّرُوْنَتو کیوں نہیں تم نصیحت پکڑتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟ 27
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْوَاقِعَة 27 یعنی تم یہ تو جانتے ہی ہو کہ پہلے تم کیسے پیدا کیے گئے تھے۔ کس طرح باپ کی صلب سے وہ نطفہ منتقل ہوا جس سے تم وجود میں آئے کس طرح رحم مادر میں، جو قبر سے کچھ کم تاریک نہ تھا، تمہیں پرورش کر کے زندہ انسان بنایا گیا۔ کس طرح ایک ذرہ بےمقدار کو نشو و نما دے کر یہ دل و دماغ، یہ آنکھ کان اور یہ ہاتھ پاؤں اس میں پیدا کیے گئے اور عقل و شعور، علم و حکمت، صنعت و ایجاد اور تدبیر و تسخیر کی یہ حیرت انگیز صلاحیتیں اس کو عطا کی گئیں۔ کیا یہ معجزہ مردوں کو دوبارہ جلا اٹھانے سے کچھ کم عجیب ہے۔ ؟ اس عجیب معجزے کو جب تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور خود اس کی زندہ شہادت کے طور پر دنیا میں موجود ہو تو کیوں اس سے یہ سبق نہیں سیکھتے کہ جس خدا کی قدرت سے یہ معجزہ بھی رونما ہوسکتا ہے۔ ؟
Tafheem-ul-Quran - 56 : 62