Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 14

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿14﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا تم نے نہیں دیکھا
    2. اِلَىطرف، کو
    3. الَّذِيْنَجو لوگ
    4. تَوَلَّوْادوستی کرتے ہیں
    5. قَوْمًاان لوگوں سے
    6. غَضِبَ اللّٰهُاللہ نے غضب کیا
    7. عَلَيْهِمْ ۭان پر
    8. مَا هُمْنہ وہ
    9. مِّنْكُمْتم میں سے
    10. وَلَا مِنْهُمْ ۙاور نہ ان میں سے
    11. وَيَحْلِفُوْنَاور وہ قسم کھاجاتے ہیں
    12. عَلَيپر
    13. الْكَذِبِجھوٹ
    14. وَهُمْحالانکہ وہ
    15. يَعْلَمُوْنَجانتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جواللہ کا مغضوب ہے؟ 31 وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن  کے، 32 اور وہ جان بُوجھ کر  جُھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ 33
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 31 اشارہ ہے مدینے کے یہودیوں کی طرف جنہیں منافقین نے دوست بنا رکھا تھا۔ سورة الْمُجَادِلَة 32 یعنی مخلصانہ تعلق ان کا نہ اہل ایمان سے ہے نہ یہود سے۔ دونوں کے ساتھ انہوں نے محض اپنی اغراض کے لیے رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 33 یعنی اس بات پر کہ وہ ایمان لائے ہیں اور محمد ﷺ کو اپنا ہادی و پیشوا مانتے ہیں اور اسلام و اہل اسلام کے وفادار ہیں۔