Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 58. Al-Mujaadila · Ayah 7

  1. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿7﴾

    1. اَلَمْ تَرَکیا آپ نے نہیں دیکھا
    2. اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
    3. يَعْلَمُوہ جانتا ہے
    4. مَاجو
    5. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    6. وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭاور جو زمین میں
    7. مَا يَكُوْنُنہیں ہوتی
    8. مِنْ نَّجْوٰىکوئی سرگوشی
    9. ثَلٰثَةٍتین لوگوں میں
    10. اِلَّا هُوَمگر وہ
    11. رَابِعُهُمْان میں چوتھا
    12. وَلَا خَمْسَةٍاور نہ پانچ کی
    13. اِلَّا هُوَمگر وہ
    14. سَادِسُهُمْان میں چھٹا
    15. وَلَآ اَدْنٰىاور نہ (خواہ) کم
    16. مِنْ ذٰلِكَاس سے
    17. وَلَآ اَكْثَرَاور نہ زیادہ
    18. اِلَّا هُوَمگر وہ
    19. مَعَهُمْان کے ساتھ
    20. اَيْنَ مَا كَانُوْا ۚجہاں کہیں وہ ہوں
    21. ثُمَّپھر
    22. يُنَبِّئُهُمْوہ انہیں بتلائے گا
    23. بِمَاجو کچھ
    24. عَمِلُوْاانہوں نے کیا
    25. يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭقیامت کے دن
    26. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    27. بِكُلِّ شَيْءٍہر شے کو
    28. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
18 کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو  اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ 19 خفیہ بات کرنے والے خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہا ں کہیں بھی وہ ہوں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ 20 پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُجَادِلَة 18 یہاں سے آیت 19 تک مسلسل منافقین کے اس طرز عمل پر گرفت کی گئی ہے جو انہوں نے اس وقت مسلم معاشرے میں اختیار کر رکھا تھا۔ وہ بظاہر مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے، مگر اندر ہی اندر انہوں نے اہل ایمان سے الگ اپنا ایک جتھا بنا رکھا تھا۔ مسلمان جب بھی انہیں دیکھتے، یہی دیکھتے کہ وہ آپس میں سر جوڑے کھسر پسر کر رہے ہیں۔ انہیں خفیہ سرگوشیوں میں وہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے اور فتنے برپا کرنے اور ہراس پھیلانے کے لیے طرح طرح کے منصوبے بناتے اور نئی نئی افواہیں گھڑتے تھے۔ سورة الْمُجَادِلَة 19 سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں دو اور تین کے بجائے تین اور پانچ کا ذکر کس مصلحت سے کیا گیا ہے ؟ پہلے دو اور پھر چار کو کیوں چھوڑ دیا گیا ؟ مفسرین نے اس کے بہت سے جوابات دیے ہیں، مگر ہمارے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ یہ طرز بیان دراصل قرآن مجید کی عبارت کے ادبی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو عبارت یوں ہوتی مَا یَکُوْنُ مِنْ نَّجْوَی اثْنَیْنِ اِلَّا ھُوَ ثاَلِثُھُمْ وَلاَ ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ھُوَ رَابِعُھُمْ۔ اس میں نَجْوَی اثْنَیْن بھی کوئی خوبصورت ترکیب نہ ہوتی اور ثالث اور ثلٰثَۃٍ کا یکے بعد دیگرے آنا بھی حلاوت سے خالی ہوتا۔ یہی قباحت الاَّ ھُوَ رَابِعُھُمْ کے بعد ولا اَربَعَۃٍ کہنے میں بھی تھی۔ اس لیے تین اور پانچ سرگوشی کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد دوسرے فقرے میں اس خلا کو یہ کہہ کر بھر دیا گیا کہ وَلَٓا اَدْنیٰ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْثَرَ اِلَّا ھُوَ مَعَھُمْ۔ سرگوشی کرنے والے خواہ تین سے کم ہوں یا پانچ سے زیادہ، بہرحال اللہ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ سورة الْمُجَادِلَة 20 یہ معیت در حقیقت اللہ جل شانہ کے علیم وخبیر، اور سمیع وبصیر اور قادر مطلق ہونے کے لحاظ سے ہے، نہ کہ معاذ اللہ اس معنی میں کہ اللہ کوئی شخص ہے جو پانچ اشخاص کے درمیان ایک چھٹے شخص کی حیثیت سے کسی جگہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے۔ دراصل اس ارشاد سے لوگوں کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ خواہ وہ کیسے ہی محفوظ مقامات پر خفیہ مشورہ کر رہے ہوں ان کی بات دنیا بھر سے چھپ سکتی ہے مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتی اور وہ دنیا کی ہر طاقت کی گرفت سے بچ سکتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔