Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 59. Al-Hashr · Ayah 11

  1. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿11﴾

    1. اَلَمْکیا نہیں
    2. تَرَآپ نے دیکھا
    3. اِلَىطرف، کو
    4. الَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
    5. نَافَقُوْانفاق کیا، منافق
    6. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    7. لِاِخْوَانِهِمُاپنے بھائیوں کو
    8. الَّذِيْنَجن لوگوں نے
    9. كَفَرُوْاکفر کیا، کافر
    10. مِنْسے
    11. اَهْلِ الْكِتٰبِاہل کتاب
    12. لَئِنْالبتہ اگر
    13. اُخْرِجْتُمْتم نکالے گئے
    14. لَنَخْرُجَنَّتو ہم ضرور نکل جائیں گے
    15. مَعَكُمْتمہارے ساتھ
    16. وَلَا نُطِيْعُاور نہ مانیں گے
    17. فِيْكُمْتمہارے بارے میں
    18. اَحَدًاکسی کا
    19. اَبَدًا ۙکبھی
    20. وَّاِنْاور اگر
    21. قُوْتِلْتُمْتم سے لڑائی ہوئی
    22. لَنَنْصُرَنَّكُمْ ۭتوہم ضرور تمہاری مدد کریں گے
    23. وَاللّٰهُاور اللہ
    24. يَشْهَدُگواہی دیتا ہے
    25. اِنَّهُمْبیشک یہ
    26. لَكٰذِبُوْنَالبتہ جھوٹے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
22 تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے؟ یہ اپنے کافر اہلِ کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں”اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارےساتھ نکلیں گے، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔“ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جُھوٹے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحَشْر 22 اس پورے رکوع کے انداز بیان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کو مدینے سے نکل جانے کے لیے دس دن کا نوٹس دیا تھا اور ان کا محاصرہ شروع ہونے میں کئی دن باقی تھے۔ جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے جب بنی نضیر کو یہ نوٹس دیا تو عبداللہ بن ابی اور مدینہ کے دوسرے منافق لیڈروں نے انکو یہ کہلا بھیجا کہ ہم دو ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کو آئیں گے، اور بنی قریظہ اور بنی غطفان بھی تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے، لہٰذا تم مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ اور ہرگز ان کے آگے ہتھیار نہ ڈالو۔ یہ تم سے لڑیں گے تو ہم تمہارے ساتھ لڑیں گے، اور تم یہاں سے نکالے گئے تو ہم بھی نکل جائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ پس ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ رکوع پہلے کا نازل شدہ ہے اور پہلا رکوع اس کے بعد نازل ہوا ہے جب بنی نضیر مدینہ سے نکالے جا چکے تھے۔ لیکن قرآن مجید کی ترتیب میں پہلے رکوع کو مقدم اور دوسرے کو مؤخر اس لیے کیا گیا ہے کہ اہم تر مضمون پہلے رکوع ہی میں بیان ہوا ہے۔