Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 111

Tafseer
  1. وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ﴿111﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. اَنَّنَاہم
    3. نَزَّلْنَآاتارتے
    4. اِلَيْهِمُان کی طرف
    5. الْمَلٰٓئِكَةَفرشتے
    6. وَكَلَّمَهُمُاور ان سے باتیں کرتے
    7. الْمَوْتٰىمردے
    8. وَحَشَرْنَااور ہم جمع کردیتے
    9. عَلَيْهِمْان پر
    10. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    11. قُبُلًاسامنے
    12. مَّانہ
    13. كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓاوہ ایمان لاتے
    14. اِلَّآمگر
    15. اَنْیہ کہ
    16. يَّشَآءَ اللّٰهُچاہے اللہ
    17. وَلٰكِنَّاور لیکن
    18. اَكْثَرَهُمْان میں اکثر
    19. يَجْهَلُوْنَجاہل (نادان) ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کردیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کردیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، اِلّا یہ کہ مشیَّتِ الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں،78 مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 78 یعنی یہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے تو حق کو باطل کے مقابلہ میں ترجیح دے کر قبول کرنے والے ہیں نہیں۔ اب ان کے حق پرست بننے کی صرف ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ عمل تخلیق وتکوین سے جس طرح تمام بےاختیار مخلوقات کو حق پرست پیدا کیا گیا ہے اسی طرح انہیں بھی بےاختیار کر کے جبلّی و پیدائشی حق پرست بنا ڈالا جائے۔ مگر یہ اس حکمت کے خلاف ہے جس کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا تمہارا یہ توقع کرنا فضول ہے کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اپنی تکوینی مداخلت سے ان کو مومن بنائے گا۔