Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 138

  1. وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿138﴾

    1. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    2. هٰذِهٖٓیہ
    3. اَنْعَامٌمویشی
    4. وَّحَرْثٌاور کھیتی
    5. حِجْرٌممنوع
    6. لَّا يَطْعَمُهَآاسے نہ کھائے
    7. اِلَّامگر
    8. مَنْجس کو
    9. نَّشَآءُہم چاہیں
    10. بِزَعْمِهِمْان کے جھوٹے خیال کے مطابق
    11. وَاَنْعَامٌاور کچھ مویشی
    12. حُرِّمَتْحرام کی گئی
    13. ظُهُوْرُهَاان کی پیٹھ (جمع)
    14. وَاَنْعَامٌاور کچھ مویشی
    15. لَّا يَذْكُرُوْنَوہ نہیں لیتے
    16. اسْمَ اللّٰهِنام اللہ کا
    17. عَلَيْهَااس پر
    18. افْتِرَآءًجھوٹ باندھتے ہیں
    19. عَلَيْهِاس پر
    20. سَيَجْزِيْهِمْہم جلد انہیں سزا دینگے
    21. بِمَااس کی جو
    22. كَانُوْا يَفْتَرُوْنَجھوٹ باندھتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں نہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔111 پھر کچھ جانور رہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیت112ے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراکیا ہے،113 عنقریب اللہ انہیں ان افتراپردازیوں کا بدلہ دے گا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 111 اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصوص ہیں۔ اس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصل ضابطہ تھا جس کی رو سے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ سب کچھ ان خود سر اور باغی بندوں نے اپنے اختیار سے خود ہی تصنیف کرلیا ہے۔ سورة الْاَنْعَام 112 روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے ہوتے تھے جن پر خدا کا نام لینا جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا، کیونکہ حج کے لیے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہنا پڑتا تھا۔ اسی طرح ان کا دودھ دوہتے وقت، یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں، یا ان کو ذبح کرتے ہوئے، یا ان کو کھانے کے وقت اہتمام کیا جاتا تھا کہ خدا کا نام زبان پر نہ آئے۔ سورة الْاَنْعَام 113 یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انہیں خدا نے مقرر کیا ہے، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آرہا ہے۔