تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 139
وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿139﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- مَاجو
- فِيْ بُطُوْنِپیٹ میں
- هٰذِهِاس
- الْاَنْعَامِمویشی (جمع)
- خَالِصَةٌخالص
- لِّذُكُوْرِنَاہمارے مردوں کے لیے
- وَمُحَرَّمٌاور حرام
- عَلٰٓيپر
- اَزْوَاجِنَاہماری عورتیں
- وَاِنْاور اگر
- يَّكُنْہو
- مَّيْتَةًمردہ
- فَهُمْتو وہ سب
- فِيْهِاس میں
- شُرَكَآءُشریک
- سَيَجْزِيْهِمْوہ جلد ان کو سزا دے گا
- وَصْفَهُمْان کا باتیں بنانا
- اِنَّهٗبیشک وہ
- حَكِيْمٌحکمت والا
- عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔114 یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کررہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 114
اہل عرب کے ہاں نذروں اور منتوں کے جانوروں کے متعلق جو خود ساختہ شریعت بنی ہوئی تھی اس کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان جانوروں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا گوشت صرف مرد کھا سکتے ہیں، عورتوں کے لیے ان کا کھانا جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ بچہ مردہ ہو یا مرجائے تو اس کا گوشت کھانے میں مرد و عورت سب شریک ہو سکتے ہیں۔