Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 80

Tafseer
  1. وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿80﴾

    1. وَحَآجَّهٗاور اس سے جھگڑا کیا
    2. قَوْمُهٗاس کی قوم
    3. قَالَاس نے کہا
    4. اَتُحَآجُّوْٓنِّىْکیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو
    5. فِيمیں
    6. اللّٰهِاللہ
    7. وَاور
    8. قَدْ هَدٰىنِاس نے مجھے ہدایت دے دی ہے
    9. وَاور
    10. لَآ اَخَافُنہیں ڈرتا میں
    11. مَا تُشْرِكُوْنَجو تم شریک کرتے ہو
    12. بِهٖٓاس کا
    13. اِلَّآمگر
    14. اَنْیہ کہ
    15. يَّشَآءَچاہے
    16. رَبِّيْمیرا رب
    17. شَيْئًاکچھ
    18. وَسِعَاحاطہ کرلیا
    19. رَبِّيْمیرا رب
    20. كُلَّ شَيْءٍہر چیز
    21. عِلْمًاعلم
    22. اَکیا
    23. فَلَا تَتَذَكَّرُوْنَسو تم نہیں سوچتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ”کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھادی ہے۔ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے۔ میرے رب کا عِلم ہر چیز پر چھایا ہوٴا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے؟54
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 54 اصل میں لفظ تَذَکُّر استعمال ہوا ہے جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص جو غفلت اور بھلاوے میں پڑا ہوا ہو وہ چونک کر اس چیز کو یاد کرلے جس سے وہ غافل تھا۔ اسی لیے ہم نے اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ کا یہ ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو، تمہارا اصلی و حقیقی رب اس سے بیخبر نہیں ہے، اس کا علم ساری چیزوں پر وسیع ہے، پھر کیا اس حقیقت سے واقف ہو کر بھی تمہیں ہوش نہ آئے گا ؟