تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 6. Al-An'aam · Ayah 88
Tafseerذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿88﴾
- ذٰلِكَیہ
- هُدَىرہنمائی
- اللّٰهِاللہ
- يَهْدِيْہدایت دیتا ہے
- بِهٖاس سے
- مَنْ يَّشَآءُجسے چاہے
- مِنْسے
- عِبَادِهٖاپنے بندے
- وَلَوْاور اگر
- اَشْرَكُوْاوہ شرک کرتے
- لَحَبِطَتو ضائع ہوجاتے
- عَنْهُمْان سے
- مَّاجو کچھ
- كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔56
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْعَام 56
یعنی جس شرک میں تم لوگ مبتلا ہو اگر کہیں وہ بھی اسی میں مبتلا ہوئے ہوتے تو یہ مرتبے ہرگز نہ پاسکتے تھے۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص کامیاب ڈاکہ زنی کر کے فاتح کی حیثیت سے دنیا میں شہرت پا لیتا، یا زر پرستی میں کمال پیدا کر کے قارون کا سا نام پیدا کرلیتا، یا کسی اور صورت سے دنیا کے بدکاروں میں نامور بدکار بن جاتا۔ لیکن یہ امام ہدایت اور امام المتقین ہونے کا شرف اور یہ دنیا بھر کے لیے خیر و صلاح کا سرچشمہ ہونے کا مقام تو کوئی بھی نہ پاسکتا اگر شرک سے مجتنب اور خالص خدا پرستی کی راہ پر ثابت قدم نہ ہوتا۔