Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 60. Al-Mumtahana · Ayah 11

  1. وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴿11﴾

    1. وَاِنْ فَاتَكُمْاور اگر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے
    2. شَيْءٌکوئی
    3. مِّنْ اَزْوَاجِكُمْتمہاری بیویوں سے
    4. اِلَى الْكُفَّارِکفار کی طرف
    5. فَعَاقَبْتُمْتو انکو (کفارکو) سزا دو
    6. فَاٰتُواپس دو
    7. الَّذِيْنَان کو جن کی
    8. ذَهَبَتْجاتی رہیں
    9. اَزْوَاجُهُمْان کی عورتیں
    10. مِّثْلَ مَآاس قدر جو
    11. اَنْفَقُوْا ۭانہوں نے خرچ کیا
    12. وَاتَّقُوا اللّٰهَاور ڈرواللہ سے
    13. الَّذِيْٓوہ جس
    14. اَنْتُمْ بِهٖتم اس پر
    15. مُؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہو
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اگر تمہاری کافر بیویوں کےمہروں میں سے کچھ تمہیں کفّار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئےتو جن لوگوں کی بیویاں اُدھررہ گئی ہیں اُن کو اتنی رقم ادا کرو جو اُن سےدیےہوئے مہروں کے برابر ہو۔ 17 اُس خدا سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُمْتَحِنَة 17 اس معاملہ کی دو صورتیں تھیں اور اس آیت کا انطباق دونوں سورتوں پر ہوتا ہے ایک صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معاہدانہ تعلقات تھے ان سے مسلمانوں نے یہ معاملہ طے کرنا چاہا کہ جو عورتیں ہجرت کر کے ہماری طرف آگئی ہیں ان کے مہر ہم واپس کردیں گے، اور ہمارے آدمیوں کی جو کافر بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے مہر تم واپس کردو۔ لیکن انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ چناچہ امام زہری بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے مسلمان ان عورتوں کے مہر واپس دینے کے لیے تیار ہوگئے جو مشرکین کے پاس مکہ میں رہ گئی تھیں، مگر مشرکوں نے ان عورتوں کے مہر واپس دینے سے انکار کردیا جو مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آگئی تھیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مہاجر عورتوں کے جو مہر تمہیں مشرکین کو واپس کرنے ہیں وہ ان کو بھیجنے کے بجائے مدینے ہی میں جمع کرلیے جائیں اور جن لوگوں کو مشرکین سے اپنے دیے ہوئے مہر واپس لینے ہیں ان میں سے ہر ایک کو اتنی رقم دے دی جائے جو اسے کفار سے وصول ہونی چاہیے تھی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ جن کفار سے مسلمانوں کے معاہدانہ تعلقات نہ تھے ان کے علاقوں سے بھی متعدد آدمی اسلام قبول کر کے دار الاسلام میں آگئے تھے اور ان کی کافر بیویاں وہاں رہ گئی تھیں۔ اسی طرح بعض عورتیں بھی مسلمان ہو کر ہجرت کر آئی تھیں اور ان کے کافر شوہر وہاں رہ گئے تھے۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا گیا کہ دار الاسلام ہی میں ادلے کا بدلہ چکا دیا جائے۔ جب کفار سے کوئی مہر واپس نہیں ملنا ہے تو انہیں بھی کوئی مہر واپس نہ کیا جائے۔ اس کے بجائے جو عورت ادھر آگئی ہے اس کے بدلے کا مہر اس شخص کو ادا کردیا جائے جس کی بیوی ادھر رہ گئی ہے۔ لیکن اگر اس طرح حساب برابر نہ ہو سکے، اور جن مسلمانوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کے وصول طلب مہر ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورتوں کے مہروں سے زیادہ ہوں، تو حکم دیا گیا کہ اس مال غنیمت سے باقی رقمیں ادا کردی جائیں جو کفار سے لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھ آگئے ہوں ابن عباس کی روایت ہے جس شخص کے حصے کا مہر وصول طلب رہ جاتا تھا، نبی ﷺ یہ حکم دیتے تھے کہ اس کے نقصان کی تلافی مال غنیمت سے کردی جائے (ابن جریر)۔ اسی مسلک کو عطاء، مجاہد، زہری، مسروق، ابراہیم نخعی، قتادہ، مقاتِل اور ضحاک نے اختیار کیا ہے۔ یہ سب حضرات کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے مہر کفار کی طرف رہ گئے ہوں ان کا بدلہ کفار سے ہاتھ آئے ہوئے مجموعی مال غنیمت میں سے ادا کیا جائے، یعنی تقسیم غنائم سے پہلے ان لوگوں کے فوت شدہ مہر ان کو دے دیے جائیں اور اس کے بعد تقسیم ہو جس میں وہ لوگ بھی دوسرے سب مجاہدین کے ساتھ برابر کا حصہ پائیں۔ بعض فقہاء یہ بھی کہتے ہیں کہ صرف اموال غنیمت ہی نہیں، اموال فَے میں سے بھی ایسے لوگوں کے نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ لیکن اہل علم کے ایک بڑے گروہ نے اس مسلک کو قبول نہیں کیا ہے۔