Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 62. Al-Jumu'a · Ayah 3

  1. وَّ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿3﴾

    1. وَّاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْاور کچھ دوسرے ان میں سے
    2. لَمَّاحالانکہ (نہیں)
    3. يَلْحَقُوْا بِهِمْوہ ملے ان کے ساتھ
    4. وَهُوَاور وہ
    5. الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُزبردست ہے، حکمت والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور (اس رسُول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں۔ 5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجُمُعَة 5 یعنی محمد ﷺ کی رسالت صرف عرب قوم تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی ان دوسری قوموں اور نسلوں کے لیے بھی ہے جو ابھی آ کر اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئی ہیں مگر آگے قیامت تک آنے والی ہیں۔ اصل الفاظ ہیں وَاٰخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِہِمْ۔ " دوسرے لوگ ان میں سے جو ابھی ان سے نہیں ملے ہیں " اس میں لفظ منہم (ان میں سے) کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ دوسرے لوگ امیوں میں سے، یعنی دنیا کی غیر اسرائیلی قوموں میں سے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ محمد ﷺ کو ماننے والے ہونگے جو ابھی اہل ایمان میں شامل نہیں ہوئے ہیں مگر بعد میں آ کر شامل ہوجائیں گے۔ اس طرح یہ آیت منجملہ ان آیات کے ہے جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تمام نوع انسانی کی طرف ہے اور ابد تک کے لیے ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات جہاں اس مضمون کی صراحت کی گئی ہے، حسب ذیل ہیں الانعام، آیت 19۔ الاعراف، 158۔ الانبیاء، 107۔ الفرقان، 1۔ سبا، 28 (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة سبا، حاشیہ 47)۔ سورة الْجُمُعَة 6 یعنی یہ اسی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ ایسی ناتراشیدہ امی قوم میں اس نے ایسا عظیم نبی بیدا کیا جس کی تعلیم و ہدایت اس درجہ انقلاب انگیز ہے، اور پھر ایسے عالمگیر ابدی اصولوں کی حامل ہے جن پر تمام نوع انسانی مل کر ایک امت بن سکتی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرسکتی ہے۔ کوئی بناؤٹی انسان خواہ کتنی ہی کوشش کرلیتا، یہ مقام و مرتبہ کبھی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔ عرب جیسی پسماندہ قوم تو درکنار، دنیا کی کسی بڑی سے بڑی قوم کا کوئی ذہین سے ذہین آدمی بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ایک قوم کی اس طرح مکمل طور پر کایا پلٹ دے، اور پھر ایسے جامع اصول دنیا کو دے دے جن پر ساری نوع انسانی ایک امت بن کر ایک دین اور ایک تہذیب کا عالمگیر و ہمہ گیر نظام ابد تک چلانے کے قابل ہوجائے۔ یہ ایک معجزہ ہے جو اللہ کی قدرت سے رونما ہوا ہے، اور اللہ ہی نے اپنی حکمت کی بنا پر جس شخص، جس ملک، اور جس قوم کو چاہا ہے اس کے لیے انتخاب کیا ہے۔ اس پر اگر کسی بیوقوف کا دل دکھتا ہے تو دکھتا رہے۔