تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 4
وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿4﴾
- وَاِذَاپھر جب
- رَاَيْتَهُمْتم دیکھو ان کو
- تُعْجِبُكَاچھے لگیں گے تم کو
- اَجْسَامُهُمْان کے جسم
- وَاِنْ يَّقُوْلُوْااور اگر وہ بات کریں
- تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْتم سنتے جاؤ ان کی بات کو
- كَاَنَّهُمْگویا کہ وہ
- خُشُبٌلکڑیاں ہیں
- مُّسَنَّدَةٌتختہ لگائی ہوئیں
- يَحْسَبُوْنَوہ سمجھتے ہیں
- كُلَّ صَيْحَةٍہر سخت آواز کو
- عَلَيْهِمْاپنے اوپر
- هُمُوہ
- الْعَدُوُّدشمن ہیں
- فَاحْذَرْهُمْپس ڈرو ان سے۔ بچو ان سے
- قٰتَلَهُمُ اللّٰهُغارت کرے ان کو اللہ
- اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَکہاں سے وہ پھرے جاتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اِنہیں دیکھو تو اِن کے جُثّے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سُنتے رہ جاؤ۔ 5 مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ 6 ہر روز کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ 7 یہ پکّے دشمن ہیں، 8 ان سے بچ کر رہو، 9 اللہ کی مار ان پر، 10 یہ کدھر اُلٹے پِھر ائے جا رہے ہیں۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُنٰفِقُوْن 5
حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی بڑے ڈیل ڈول کا، تندرست، خوش شکل اور چرب زبان آدمی تھا۔ اور یہی شان اس کے بہت سے ساتھیوں کی تھی۔ یہ سب مدینہ کے رئیس لوگ تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں آتے تو دیواروں سے تکیے لگا کر بیٹھتے اور بڑی لچھے دار باتیں کرتے۔ ان کے جُثّے بشرے کو دیکھ کر اور ان کی باتیں سن کر کوئی یہ گمان تک نہ کرسکتا تھا کہ بستی کے یہ معززین اپنے کردار کے لحاظ سے اتنے ذلیل ہوں گے۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 6
یعنی یہ جو دیواروں کے ساتھ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں، یہ انسان نہیں ہیں بلکہ لکڑی کے کندے ہیں۔ ان کو لکڑی سے تشبیہ دے کر یہ بتایا گیا کہ یہ اخلاق کی روح سے خالی ہیں جو اصل جوہر انسانیت ہے۔ پھر انہیں دیوار سے لگے ہوئے کندوں سے تشبیہ دے کر یہ بھی بتادیا گیا کہ یہ بالکل ناکارہ ہیں۔ کیونکہ لکڑی بھی اگر کوئی فائدہ دیتی ہے تو اس وقت جب کہ وہ کسی چھت میں، یا کسی دروازے میں یا کسی فرنیچر میں لگ کر استعمال ہو رہی ہو۔ دیوار سے لگا کر کندے کی شکل میں جو لکڑی رکھ دی گئی ہو وہ کوئی فائدہ بھی نہیں دیتی۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 7
اس مختصر سے فقرے میں ان کے مجرم ضمیر کی تصویر کھینچ دی گئی ہے۔ چونکہ وہ اپنے دلوں میں خوب جانتے تھے کہ وہ ایمان کے ظاہر پردے کی آڑ میں منافقت کا کیا کھیل کھیل رہے ہیں، اس لیے انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کب ان کے جرائم کا راز فاش ہو، یا ان کی حرکتوں پر اہل ایمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ان کی خبر لے ڈالی جائے۔ بستی میں کسی طرف سے بھی کوئی زور کی آواز آتی یا کہیں کوئی شور بلند ہوتا تھا تو وہ سہم جاتے اور یہ خیال کرتے تھے کہ آگئی ہماری شامت۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 8
دوسرے الفاظ میں کھلے دشمنوں کی بہ نسبت یہ چھپے ہوئے دشمن زیادہ خطرناک ہیں۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 9
یعنی ان کے ظاہر سے دھوکا نہ کھاؤ۔ ہر وقت خیال رکھو کہ یہ کسی وقت بھی دغا دے سکتے ہیں۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 10
یہ بد دعا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں اس فیصلے کا اعلان ہے کہ وہ اس کی مار کے مستحق ہوچکے ہیں، ان پر اس کی مار پڑ کر رہے گی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ نے لغوی معنی میں استعمال نہ فرمائے ہوں بلکہ عربی محاورے کے مطابق لعنت اور پھٹکار اور مذمت کے لیے استعمال کیے ہوں، جیسے اردو میں ہم کسی کی برائی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ستیاناس اس کا، کیسا خبیث آدمی ہے۔ اس لفظ ستیاناس سے مقصود اس کی خیانت کی شدت ظاہر کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس کے حق میں بد دعا کرنا۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 11
یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کو ایمان سے نفاق کی طرف الٹا پھر انے والا کون ہے۔ اس کی تصریح نہ کرنے سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان کی اس اوندھی چال کا کوئی ایک محرک نہیں ہے بلکہ بہت سے محرکات اس میں کار فرما ہیں۔ شیطان ہے۔ برے دوست ہیں۔ ان کے اپنے نفس کی اغراض ہیں۔ کسی کی بیوی اس کی محرک ہے۔ کسی کے بچے اس کے محرک ہیں۔ کسی کی برادری کے اشرار اس کے محرک ہیں۔ کسی کو حسد اور بغض اور تکبر نے اس راہ پر ہانک دیا ہے۔