تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 8
یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿8﴾
- يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
- لَئِنْ رَّجَعْنَآالبتہ اگر لوٹے ہم
- اِلَى الْمَدِيْنَةِمدینہ کی طرف
- لَيُخْرِجَنَّالبتہ ضرور نکالے گا
- الْاَعَزُّ مِنْهَازیادہ عزت والا اس سے
- الْاَذَلَّزیادہ ذلیل کو
- وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُاور اللہ کے لیے ہے عزت
- وَلِرَسُوْلِهٖاور اس کے رسول کے لیے
- وَلِلْمُؤْمِنِيْنَاور مومنوں کے لیے
- وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَلیکن منافق لوگ
- لَا يَعْلَمُوْنَعلم نہیں رکھتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزّت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ 15 حالانکہ عزّت تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ اور مومنین کے لیے ہے، 16 مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُنٰفِقُوْن 15
حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں کہ جب میں نے عبداللہ بن ابی کا یہ قول رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا، اور اس نے آ کر صاف انکار کردیا اور اس پر قسم کھا گیا، تو انصار کے بڑے بوڑھوں نے اور خود میرے اپنے چچا نے مجھے بہت ملامت کی، حتیٰ کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ حضور ﷺ نے بھی مجھے جھوٹا اور عبداللہ بن ابی کو سچا سمجھا ہے۔ اس چیز سے مجھے ایسا غم لاحق ہوا جو عمر بھر کبھی نہیں ہوا اور میں دل گرفتہ ہو کر اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلا کر ہنستے ہوئے میرا کان پکڑا اور فرمایا لڑکے کا کان سچا تھا، اللہ نے اس کی خود تصدیق فرما دی (ابن جریر۔ ترمذی میں بھی اس سے ملتی جلتی روایت موجود ہے)۔
سورة الْمُنٰفِقُوْن 16
یعنی عزت اللہ کے لیے بالذات مخصوص ہے، اور رسول کے لیے بر بنائے رسالت، اور مومنین کے لیے بر بنائے ایمان۔ رہے کفار و فُسّاق و منافقین، تو حقیقی عزت میں سرے سے ان کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے۔