Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 63. Al-Munaafiqoon · Ayah 9

  1. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿9﴾

    1. يٰٓاَيُّهَااے
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْالوگو ! جو ایمان لائے ہو
    3. لَا تُلْهِكُمْنہ غافل کریں تم کو
    4. اَمْوَالُكُمْمال تمہارے
    5. وَلَآ اَوْلَادُكُمْاور نہ اولاد تمہاری
    6. عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِاللہ کے ذکر سے
    7. وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَاور جو کوئی ایسا کرے گا
    8. فَاُولٰٓئِكَتو یہی لوگ
    9. هُمُ الْخٰسِرُوْنَوہ ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
17 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں۔ 18 جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُنٰفِقُوْن 17 اب تمام ان لوگوں کو جو دائرہ اسلام میں داخل ہوں، قطع نظر اس سے کہ سچے مومن ہوں یا محض زبانی اقرار ایمان کرنے والے، عام خطاب کر کے ایک کلمۂ نصیحت ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ یہ بات اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے ہیں کہ قرآن مجید میں اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے کبھی تو سچے اہل ایمان کو خطاب کیا جاتا ہے، اور کبھی اس کے مخاطب منافقین ہوتے ہیں کیونکہ وہ زبانی اقرار ایمان کرنے والے ہوا کرتے ہیں، اور کبھی ہر طرح کے مسلمان بالعموم اس سے مراد ہوتے ہیں۔ کلام کا موقع و محل یہ بتادیتا ہے کہ کہاں کونسا گروہ ان الفاظ کی مخاطب ہے۔ سورة الْمُنٰفِقُوْن 18 مال اور اولاد کا ذکر تو خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے کہ انسان زیادہ تر انہی کے مفاد کی خاطر ایمان کے تقاضوں سے منہ موڑ کر منافقت، یا ضعف ایمان، یا فسق و نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے، ورنہ در حقیقت مراد دنیا کی ہر وہ چیز ہے جو انسان کو اپنے اندر اتنا مشغول کرلے کہ وہ خدا کی یاد سے غافل ہوجائے۔ یہ یاد خدا سے غفلت ہی ساری خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر انسان کو یہ یاد رہے کہ وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے، اور وہ خدا اس کے تمام اعمال سے باخبر ہے، اور اس کے سامنے جا کر ایک دن اسے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، تو وہ کبھی کسی گمراہی و بد عملی میں مبتلا نہ ہو، اور بشری کمزوری سے اس کا قدم اگر کسی وقت پھسل بھی جائے تو ہوش آتے ہی وہ فوراً سنبھل جائے۔