Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 65. At-Talaaq · Ayah 11

  1. رَّسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ یَعْمَلْ صَالِحًا یُّدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا﴿11﴾

    1. رَّسُوْلًا(بھیجا) ایک رسول کو
    2. يَّتْلُوْاوہ پڑھتا ہے
    3. عَلَيْكُمْتم پر
    4. اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات
    5. مُبَيِّنٰتٍواضح
    6. لِّيُخْرِجَ الَّذِيْنَتاکہ نکال دے ان لوگوں کو
    7. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
    8. وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِاور انہوں نے عمل کیے اچھے
    9. مِنَ الظُّلُمٰتِاندھیروں سے
    10. اِلَى النُّوْرِنور کی طرف
    11. وَمَنْ يُّؤْمِنْۢاور جو کوئی ایمان لائے
    12. بِاللّٰهِاللہ پر
    13. وَيَعْمَلْاور عمل کرے
    14. صَالِحًااچھے
    15. يُّدْخِلْهُداخل کرے گا اس کو
    16. جَنّٰتٍباغوں میں
    17. تَجْرِيْبہتی ہیں
    18. مِنْ تَحْتِهَاجن کے نیچے
    19. الْاَنْهٰرُنہریں
    20. خٰلِدِيْنَ فِيْهَآہمیشہ رہنے والے ہیں ان میں
    21. اَبَدًاہمیشہ ہمیشہ
    22. قَدْ اَحْسَنَتحقیق اچھا دیا
    23. اللّٰهُاللہ نے
    24. لَهٗ رِزْقًااس کو رزق
Translation · Tafheem-ul-Quran
ایک ایسا رسُول 21 جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ 22 جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنّتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ لوگ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الطَّلَاق 21 مفسرین میں سے بعض نے نصیحت سے مراد قرآن لیا ہے، اور رسول سے مراد محمد ﷺ اور بعض کہتے ہیں کہ نصیحت سے مراد خود رسول اللہ ﷺ ہی ہیں، یعنی آپ کی ذات ہمہ تن نصیحت تھی۔ ہمارے نزدیک یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے، کیونکہ پہلی تفسیر کی رو سے فقرہ یوں بنانا پڑے گا کہ " ہم نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے اور ایک ایسا رسول بھیجا ہے " قرآن کی عبارت میں اس تبدیلی کی آخر ضرورت کیا ہے جب کہ اس کے بغیر ہی عبارت نہ صرف پوری طرح بامعنی ہے بلکہ زیادہ پر معنی بھی ہے۔ سورة الطَّلَاق 22 یعنی جہالت کی تاریکیوں سے علم کی روشنی میں نکال لائے۔ اس ارشاد کی پوری اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب انسان طلاق، عدت اور نفقات کے متعلق دنیا کے دوسرے قدیم اور جدید عائلی قوانین کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس تقابلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کی تبدیلیوں اور نت نئی قانون سازیوں کے باوجود آج تک کسی قوم کو ایسا معقول اور فطری اور معاشرے کے لیے مفید قانون میسر نہیں آسکا ہے جیسا اس کتاب اور اس کے لانے والے رسول ﷺ نے ڈیڑھ ہزار برس پہلے ہم کو دیا تھا اور جس پر کسی نظر ثانی کی ضرورت نہ کبھی پیش آئی نہ پیش آسکتی ہے۔ یہاں اس تقابلی بحث کا موقع نہیں ہے۔ اس کا محض ایک مختصر سا نمونہ ہم نے اپنی کتاب " حقوق الزوجین " کے آخری حصہ میں درج کیا ہے۔ لیکن جو اصحاب علم چاہیں وہ دنیا کے مذہبی اور لادینی قوانین سے قرآن و سنت کے اس قانون کا مقابلہ کر کے خود دیکھ لیں۔