Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 10

Tafseer
  1. وَ قَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ﴿10﴾

    1. وَقَالُوْااور وہ کہیں گے
    2. لَوْ كُنَّاکاش ہم ہوتے
    3. نَسْمَعُہم سنتے
    4. اَوْ نَعْقِلُیا ہم سمجھتے ہوتے
    5. مَانہ
    6. كُنَّاہوتے ہم
    7. فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِدوزخ والوں میں سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور وہ کہیں گے  ”کاش ہم سُنتے اور سمجھتے 16 تو آج اِس بھَڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 16 یعنی ہم نے طالب حق بن کر انبیاء کی بات کو توجہ سے سنا ہوتا، یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہاں سننے کو سمجھنے پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے نبی کی تعلیم کو توجہ سے سننا (یا اگر وہ لکھی شکل میں ہو تو طالب حق بن کر اسے پڑھنا) ہدایت پانے کے لیے شرط اول ہے۔ اس پر غور کر کے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنے کا مرتبہ اس کے بعد آتا ہے نبی کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل سے بطور خود کام لے کر انسان براہ راست حق تک نہیں پہنچ سکتا۔
Tafheem-ul-Quran - 67 : 10