Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 14

Tafseer
  1. اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠ع﴿14﴾

    1. اَلَا يَعْلَمُکیا نہیں جانے گا
    2. مَنْ خَلَقَوہ جس نے پیدا کیا
    3. وَهُوَ اللَّطِيْفُاور وہ باریک بین ہے
    4. الْخَبِيْرُباخبر ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ 21 حالانکہ وہ باریک بیں 22 اور باخبر ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 21 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا وہ اپنی مخلوق ہی کو نہ جانے گا " ؟ اصل میں من خلق استعمال ہوا ہے۔ اس کے معنی " جس نے پیدا کیا ہے " بھی ہو سکتے ہیں، اور " جس کو اس نے پیدا کیا ہے " بھی۔ دونوں صورتوں میں مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ یہ دلیل اس بات کی جو اوپر کے فقرے میں ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے بیخبر ہو ؟ مخلوق خود اپنے آپ سے بیخبر ہو سکتی ہے، مگر خالق اس سے بیخبر نہیں ہو سکتا۔ تمہاری رگ رگ اس نے بنائی ہے۔ تمہارے دل و دماغ کا ایک ایک ریشہ اس کا بنایا ہوا ہے۔ تمہارا ہر سانس اس کے جاری رکھنے سے جاری ہے۔ تمہارا ہر عضو اس کی تدبیر سے کام کر رہا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی بات کیسے چھپی رہ سکتی ہے ؟ سورة الْمُلْک 22 اصل میں لفظ " لطیف " استعمال ہوا ہے جس کے معنی غیر محسوس طریقے سے کام کرنے والے کے بھی ہیں اور پوشیدہ حقائق کو جاننے والے کے بھی۔