تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 15
Tafseerهُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ﴿15﴾
- هُوَوہ
- الَّذِيْاللہ وہ ذات ہے
- جَعَلَجس نے بنایا
- لَكُمُ الْاَرْضَتمہارے لیے زمین
- ذَلُوْلًاتابع۔ فرش
- فَامْشُوْاپس چلو
- فِيْ مَنَاكِبِهَااس کے اطراف میں
- وَكُلُوْااور کھاؤ
- مِنْ رِّزْقِهٖاس کے رزق میں سے
- وَاِلَيْهِاور اسی کی طرف
- النُّشُوْرُدوبارہ زندہ ہونا
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاوٴ خدا کا رزق، 23 اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے۔ 24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 23
یعنی زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہوگیا، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کرہ ایسا پرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوان نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بےحدو حساب سرو سامان موجود ہے۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کردینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، النمل، حواشی 73۔ 74۔ 81۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 29۔ 32۔ المومن، حواشی 90۔ 91۔ الزخرف، حاشیہ 7۔ الجاثیہ، حاشیہ 7۔ جلد پنجم قٓ، حاشیہ 18۔
سورة الْمُلْک 24
یعنی اس زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اس بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔