تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ﴿2﴾
- الَّذِيْجس نے
- خَلَقَ الْمَوْتَپیدا کیا موت کو
- وَالْحَيٰوةَاور زندگی کو
- لِيَبْلُوَكُمْتاکہ آزمائے تم کو
- اَيُّكُمْکون ساتم میں سے
- اَحْسَنُ عَمَلًازیادہ اچھا ہے عمل میں
- وَهُوَ الْعَزِيْزُاور وہ زبردست ہے
- الْغَفُوْرُبخشش کرنے والا ہے
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، 4 اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ 5
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 4
یعنی دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لیے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اول یہ کہ موت اور حیات اسی کی طرف سے ہے، کوئی دوسرا زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ تیسرے یہ کہ اسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کر کے اپنی اچھائی یا برائی کا ا ظہار کرسکے اور عملاً یہ دکھا دے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ چوتھے یہ کہ خالق ہی دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا۔ لہذا جو بھی امتحان میں کامیاب ہونا چاہے اسے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ممتحن کے نزدیک حسن عمل کیا ہے۔ پانچواں نکتہ خود امتحان کے مفہوم میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کا جیسا عمل ہوگا اس کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی، کیونکہ اگر جزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔
سورة الْمُلْک 5
اس کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بےانتہا زبردست اور سب پر پوری طرح غالب ہونے کے باوجود اپنی مخلوق کے حق میں رحیم و غفور ہے، ظالم اور سخت گیر نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ برے عمل کرنے والوں کو سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کی سزا سے بچ سکے۔ مگر جو نادم ہو کر برائی سے باز آجائے اور معافی مانگ لے اس کے ساتھ وہ در گزر کا معاملہ کرنے والا ہے۔