Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 67. Al-Mulk · Ayah 26

Tafseer
  1. قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿26﴾

    1. قُلْکہہ دیجئے
    2. اِنَّمَا الْعِلْمُبیشک علم
    3. عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے پاس ہے
    4. وَاِنَّمَآاور بیشک
    5. اَنَا نَذِيْرٌمیں ڈرانے والا ہوں
    6. مُّبِيْنٌکھلم کھلا
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو”اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“ 36
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُلْک 36 یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبردار کردینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کرلے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ کس روز مرے گا۔
Tafheem-ul-Quran - 67 : 26