تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 131
فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿131﴾
- فَاِذَاپھر جب
- جَآءَتْهُمُآئی ان کے پاس
- الْحَسَنَةُبھلائی
- قَالُوْاوہ کہنے لگے
- لَنَاہمارے لیے
- هٰذِهٖیہ
- وَاِنْاور اگر
- تُصِبْهُمْپہنچتی
- سَيِّئَةٌکوئی برائی
- يَّطَّيَّرُوْابدشگونی لیتے
- بِمُوْسٰيموسیٰ سے
- وَمَنْ مَّعَهٗاور جو ان کے ساتھ (ساتھی)
- اَلَآیاد رکھو
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- طٰٓئِرُهُمْان کی بدنصیبی
- عِنْدَپاس
- اللّٰهِاللہ
- وَلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَهُمْان کے اکثر
- لَا يَعْلَمُوْنَنہیں جانتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے