Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 7. Al-A'raaf · Ayah 203

  1. وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿203﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. لَمْ تَاْتِهِمْتم نہ لاؤ ان کے پاس
    3. بِاٰيَةٍکوئی آیت
    4. قَالُوْاکہتے ہیں
    5. لَوْلَاکیوں نہیں
    6. اجْتَبَيْتَهَااسے گھڑ لیا
    7. قُلْکہ دیں
    8. اِنَّمَآصرف
    9. اَتَّبِعُمیں پیروی کرتا ہوں
    10. مَا يُوْحٰٓىجو وحی کی جاتی ہے
    11. اِلَيَّمیری طرف
    12. مِنْسے
    13. رَّبِّيْمیرا رب
    14. هٰذَایہ
    15. بَصَآئِرُسوجھ کی باتیں
    16. مِنْسے
    17. رَّبِّكُمْتمہارا رب
    18. وَهُدًىاور ہدایت
    19. وَّرَحْمَةٌاور رحمت
    20. لِّقَوْمٍلوگوں کے لیے
    21. يُّؤْمِنُوْنَایمان رکھتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے نبی، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟151 اِن سےکہو”میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے ربّ نےمیری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیر ت کی روشنیاں ہیں تمہارے ربّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔152
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَعْرَاف 151 کفار کے اس سوال میں ایک صریح طعن کا انداز پایا جاتا تھا۔ یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میاں جس طرح تم نبی بن بیٹھے ہو اسی طرح کوئی معجزہ بھی چھانٹ کر اپنے لیے بنا لائے ہوتے۔ لیکن آگے ملاحظہ ہو کہ اس طعن کا جواب کس شان سے دیا جاتا ہے۔ سورة الْاَعْرَاف 152 یعنی میرا منصب یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی مانگ ہو یا جس کی میں خود ضرورت محسوس کروں اسے خود ایجاد یا تصنیف کر کے پیش کردوں۔ میں تو ایک رسول ہوں اور میرا منصب صرف یہ ہے کہ جس نے مجھے بھیجا ہے اس کی ہدایت پر عمل کروں۔ معجزے کے بجائے میرے بھیجنے والے نے جو چیز میرے پاس بھیجی ہے وہ یہ قرآن ہے۔ اس کے اندر بصیرت افروز روشنیاں موجود ہیں اور اس کی نمایاں ترین خوبی یہ ہے کہ جو لوگ اس کو مان لیتے ہیں ان کو زندگی کا سیدھا راستہ مل جاتا ہے اور ان کے اخلاق حسنہ میں رحمت الہٰی کے آثار صاف ہویدا ہونے لگتے ہیں۔