تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 25
Tafseerلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ﴿25﴾
- لِّلسَّآئِلِسوالی کے لیے
- وَالْمَحْرُوْمِاور محروم کے لیے
Translation · Tafheem-ul-Quran
سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے، 16
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَعَارِج 16
سورة ذاریات آیت 19 میں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے "۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ " ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے "۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوٰۃ ہے، کیونکہ اسی میں نصاب اور شرح، دونوں چیزیں مقرر کردی گئی ہیں۔ لیکن یہ تفسیر اس بنا پر قابل قبول نہیں ہے کہ سورة معارج بالاتفاق مکی ہے، اور زکوٰۃ ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے۔ اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ یہی حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد، شعبی اور ابراہیم نخعی نے بیان کیے ہیں۔
سائل سے مراد پیشہ ور بھیک مانگنے والا نہیں بلکہ وہ حاجت مند شخص ہے جو کسی سے مدد مانگے۔ اور محروم سے مراد ایسا شخص ہے جو بےروز گار ہو، یا روزی کمانے کی کوشش کرتا ہو مگر اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں، یا کسی حاد ثے یا آفت کا شکار ہو کر محتاج ہوگیا ہو، یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے متعلق جب معلوم ہوجائے کہ وہ واقعی محروم ہیں تو ایک خدا پرست انسان اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ اس سے مدد مانگیں، بلکہ ان کی محرومی کا علم ہوتے ہی وہ خود آگے بڑھ کر ان کی مدد کرتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر سورة ذاریات، حاشیہ 17)۔