تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 70. Al-Ma'aarij · Ayah 40
Tafseerفَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ﴿40﴾
- فَلَآپس نہیں
- اُقْسِمُمیں قسم کھاتا ہوں
- بِرَبِّ الْمَشٰرِقِمشرقوں کے رب کی
- وَالْمَغٰرِبِاور مغربوں کے
- اِنَّا لَقٰدِرُوْنَبیشک ہم البتہ قادر ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس نہیں، 27 میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، 28 ہم اِس پر قادر ہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمَعَارِج 27
یعنی بات وہ نہیں ہے جو انہوں نے سمجھ رکھی ہے۔
سورة الْمَعَارِج 28
یہاں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ مشرقوں اور مغربوں کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع اور نئے زاویے پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں پر سورج الگ الگ اوقات میں پے درپے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ایک دوسرے اعتبار سے شمال اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب۔ اس بنا پر سورة شعراء، آیت 28 اور سورة مزمل، آیت 19 میں رب المشرق و المغرب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ایک اور لحاظ سے زمین کے دو مشرق اور دو مغرب ہیں، کیونکہ جب زمین کے ایک نصف کرے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے۔ اس بنا پر سورة رحمن، آیت 17 میں رب المشرقین و رب المغربین کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الرحمن، حاشیہ 17)۔