تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 16
Tafseerوَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾
- وَّاَنْاور یہ کہ
- لَّوِاگر
- اسْتَقَامُوْاوہ قائم رہتے
- عَلَي الطَّرِيْقَةِ(سیدھے) راستہ پر
- لَاَسْقَيْنٰهُمْتو البتہ ہم انہیں پلاتے
- مَّآءًپانی
- غَدَقًاوافر
Translation · Tafheem-ul-Quran
15 اور (اے نبیؐ) کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے، 16
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 15
اوپر جنوں کی بات ختم ہوگئی۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے اپنے ا رشادات شروع ہوتے ہیں۔
سورة الْجِنّ 16
یہ وہی بات ہے جو سورة نوح میں فرمائی گئی ہے کہ اللہ سے معافی مانگو تو وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، تفسیر سورة نوح، حاشیہ 12)۔ پانی کی کثرت کو نعمتوں کی کثرت کے لیے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ پانی ہی پر آبادی کا انحصار ہے۔ پانی نہ ہو تو سرے سے کوئی بستی بس ہی نہیں سکتی، نہ انسان کی بنیادی ضروریات فراہم ہو سکتی ہیں، اور نہ انسان کی صنعتیں چل سکتی ہیں۔