تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 25
Tafseerقُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا﴿25﴾
- قُلْفرمادیں
- اِنْ اَدْرِيْٓنہیں میں جانتا
- اَقَرِيْبٌآیا قریب ہے
- مَّا تُوْعَدُوْنَجو تمہیں وعدہ دیاجاتا ہے
- اَمْیا
- يَجْعَلُکردے گا
- لَهٗاسکے لئے
- رَبِّيْٓمیرا رب
- اَمَدًامدت
Translation · Tafheem-ul-Quran
کہو”میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سےکیا جارہا ہے وہ قریب ہے یا میرا ربّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے۔ 25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 25
انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک سوال کا جواب ہے جو سوال نقل کیے بغیر دیا گیا ہے۔ غالباً اوپر کی بات سن کر مخالفین نے طنز اور مذاق کے طور پر سوال کیا ہوگا کہ وہ وقت جس کا ڈراوا آپ دے رہے ہیں آخر کب آئے گا ؟ اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان لوگوں سے کہو، اس وقت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کی تاریخ مجھے نہیں بتائی گئی۔ یہ بات اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کہ آیا وہ جلدی آنے و الا ہے یا اس کے لیے ایک طویل مدت مقرر کی گئی ہے۔