Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 72. Al-Jinn · Ayah 28

Tafseer
  1. لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ع﴿28﴾

    1. لِّيَعْلَمَتاکہ وہ معلوم کرلے
    2. اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْاکہ انہوں نے تحقیق پہنچادئیے
    3. رِسٰلٰتِپیغام (جمع)
    4. رَبِّهِمْاپنے رب کے
    5. وَاَحَاطَاور اس نے احاطہ کیا ہوا ہے
    6. بِمَا لَدَيْهِمْجو ان کے پاس
    7. وَاَحْصٰىاور اس نے شمار کر رکھی ہے
    8. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    9. عَدَدًاگنتی میں
Translation · Tafheem-ul-Quran
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیے، 29 اور اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔“ 30
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْجِنّ 29 اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ رسول یہ جان لے کہ فرشتوں نے اس کو اللہ تعالیٰ کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ فرشتوں نے اپنے رب کے پیغامات اس کے رسول تک صحیح صحیح پہنچا دیے ہیں۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ یہ جان لے کہ رسولوں نے اس کے بندوں تک اپنے رب کے پیغامات ٹھیک ٹھیک پہنچا دیے۔ آیت کے الفاظ ان تینوں معنوں پر حاوی ہیں اور بعید نہیں کہ تینوں ہی مراد ہوں۔ اس کے علاوہ یہ آیت دو مزید باتوں پر بھی دلالت کرتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ رسول کو وہ علم غیب عطا کیا جاتا ہے جو فریضہ رسالت کی انجام دہی کے لیے اس کو دینا ضروری ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو فرشتے نگہبانی کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں وہ صرف اسی بات کی نگہبانی نہیں کرتے کہ رسول تک وحی محفوظ طریقے سے پہنچ جائے بلکہ اس بات کی نگہبانی بھی کرتے ہیں کہ رسول اپنے رب کے پیغامات اس کے بندوں تک بےکم وکاست پہنچا دے۔ سورة الْجِنّ 30 یعنی رسول پر بھی اور فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس طرح محیط ہے کہ اگر بال برابر بھی وہ اس کی مرضی کے خلاف جنبش کریں تو فوراً گرفت میں آجائیں۔ اور جو پیغامات اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے ان کا حرف حرف گنا ہوا ہے، رسولوں اور فرشتوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ ان میں ایک حرف کی کمی بیشی بھی کرسکیں۔