تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 15
Tafseerاِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا١ۙ۬ شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًاؕ﴿15﴾
- اِنَّآ اَرْسَلْنَآبیشک ہم نے بھیجا
- اِلَيْكُمْتمہاری طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
- شَاهِدًاگواہی دینے والا
- عَلَيْكُمْتم پر
- كَمَآ اَرْسَلْنَآجیسے ہم نے بھیجا
- اِلٰى فِرْعَوْنَفرعون کی طرف
- رَسُوْلًاایک رسول
Translation · Tafheem-ul-Quran
15 تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا16 ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسُول بھیجا تھا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُزَّمِّل 15
اب مکہ کے ان کفار کو خطاب کیا جا رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلا رہے تھے اور آپ کی مخالفت میں سرگرم تھے۔
سورة الْمُزَّمِّل 16
رسول اللہ ﷺ کو لوگوں پر گواہ بنا کر بھیجنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ دنیا میں ان کے سامنے اپنے قول اور عمل سے حق کی شہادت دیں، اور یہ بھی آخرت میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت برپا ہوگی اس وقت آپ یہ گواہی دیں کہ میں نے ان لوگوں کے سامنے حق پیش کردیا تھا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 144۔ النساء، حاشیہ 64 جلد دوم، النحل، آیات 84، 89۔ جلد چہارم، الاحزاب، حاشیہ 82، جلد پنجم، الفتح، حاشیہ 14)۔