تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 9
Tafseerرَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا﴿9﴾
- رَبُّرب
- الْمَشْرِقِمشرق کا
- وَالْمَغْرِبِاور مغرب
- لَآ اِلٰهَنہیں کوئی معبود
- اِلَّا هُوَاس کے سوا
- فَاتَّخِذْهُپس پکڑ لو (بنالو) اسکو
- وَكِيْلًاکارساز
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو۔10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُزَّمِّل 10
وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جس پر اعتماد کر کے کوئی شخص اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دے۔ قریب قریب اسی معنی میں ہم اردو زبان میں وکیل کا لفظ اس شخص کے لیے استعمال کرتے ہیں جس کے حوالہ اپنا مقدمہ کر کے ایک آدمی مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کی طرف سے وہ اچھی طرح مقدمہ لڑے گا اور اسے خود اپنا مقدمہ لڑنے کی حاجت نہ رہے گی۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دین کی دعوت پیش کرنے پر تمہارے خلاف مخالفتوں کا جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور جو مشکلات تمہیں پیش آ رہی ہیں ان پر کوئی پریشانی تم کو لاحق نہ ہونی چاہیے۔ تمہارا رب وہ ہے جو مشرق و مغرب، یعنی ساری کائنات کا مالک ہے، جس کے سوا خدائی کے اختیارات کسی کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ تم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کردو اور مطمئن ہوجاؤ کہ اب تمہارا مقدمہ وہ لڑے گا، تمہارے مخالفین سے وہ نمٹے گا اور تمہارے سارے کام وہ بنائے گا۔