Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 73. Al-Muzzammil · Ayah 10

Tafseer
  1. وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِیْلًا﴿10﴾

    1. وَاصْبِرْاور آپ صبر کریں
    2. عَلٰياس پر
    3. مَاجو
    4. يَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
    5. وَاهْجُرْهُمْاور انہیں چھوڑدیں
    6. هَجْرًاکنارہ کش ہوکر
    7. جَمِيْلًااچھی طرح
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاوٴ۔ 11
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُزَّمِّل 11 الگ ہوجاؤ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سے مقاطعہ کر کے اپنی تبلیغ بند کردو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے منہ نہ لگو، ان کی بیہودگیوں کو بالکل نظر انداز کردو، اور انکی کسی بد تمیزی کا جواب نہ دو۔ پھر یہ احتراز بھی کسی غم اور غصے اور جھنجھلاہٹ کے ساتھ نہ ہو، بلکہ اس طرح کا احتراز ہو جس طرح ایک شریف آدمی کسی بازاری آدمی کی گالی سن کر اسے نظر انداز کردیتا ہے اور دل پر میل تک نہیں آنے دیتا۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل کچھ اس سے مختلف تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی۔ اصل میں تو آپ پہلے ہی سے اسی طریقے پر عمل فرما رہے تھے، لیکن قرآن میں یہ ہدایت اس لیے دی گئی کہ کفار کو بتادیا جائے کہ تم جو حرکتیں کر رہے ہو ان کا جواب نہ دینے کی وجہ کمزوری نہیں ہے بلکہ اللہ نے ایسی باتوں کے جواب میں اپنے رسول کو یہی شریفانہ طریقہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔
Tafheem-ul-Quran - 73 : 10