تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 53
Tafseerكَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ﴿53﴾
- كَلَّا ۭہرگز نہیں
- بَلْبلکہ
- لَّا يَخَافُوْنَوہ نہیں ڈرتے
- الْاٰخِرَةَآخرت
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہر گز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ 39
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُدَّثِّر 39
یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے مطالبے پورے نہیں کیے جاتے، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت سے بےخوف ہیں۔ انہوں نے سب کچھ اسی دنیا کو سمجھ رکھا ہے اور انہیں یہ خیال نہیں ہے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس میں ان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی چیز نے ان کو دنیا میں بےفکر اور غیر ذمہ دار بنادیا ہے۔ یہ حق اور باطل کے سوال کو سرے سے بےمعنی سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کو دنیا میں کوئی حق ایسا نظر نہیں آتا جس کی پیروی کا نتیجہ لازما دنیا میں اچھا ہی نکلتا ہو۔ اور نہ کوئی باطل ایسا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ضرور برا ہی نکلا کرتا ہو۔ اس لیے یہ اس مسئلے پر غور کرنا لا حاصل سمجھتے ہیں کہ فی الواقع حق کیا ہے اور باطل کیا۔ یہ مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ قابل غور اگر ہوسکتا ہے تو صرف اس شخص کے لیے جو دنیا کی موجودہ زندگی کو ایک عارضی زندگی سمجھتا ہو اور یہ تسلیم کرتا ہو کہ اصلی اور ابدی زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں حق کا انجام لازماً اچھا اور باطل کا انجام لازماً برا ہوگا۔ ایسا شخص تو ان معقول دلائل اور ان پاکیزہ تعلیمات کو دیکھ کر ایمان لائے گا جو قرآن میں پیش کی گئی ہیں اور اپنی عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ قرآن جن عقائد اور اعمال کو غلط کہہ رہا ہے ان میں فی الواقع کیا غلطی ہے۔ لیکن آخرت کا منکر جو سرے سے تلاش حق میں سنجیدہ ہی نہیں ہے وہ ایمان نہ لانے کے لیے آئے دن نت نئے مطالبے پیش کرے گا۔ حالانکہ اس کا خواہ کوئی مطالبہ بھی پورا کردیا جائے، وہ انکار کرنے کے لیے کوئی دوسرا بہانا ڈھونڈ نکالے گا۔ یہی بات ہے جو سورة انعام میں فرمائی گئی ہے کہ " اے نبی، اگر ہم تمہارے اوپر کاغذ میں لکھی لکھائی کوئی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے "۔ (الانعام، 7)۔