Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 56

Tafseer
  1. وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ع﴿56﴾

    1. وَمَااور نہ
    2. يَذْكُرُوْنَوہ یاد رکھیں گے
    3. اِلَّآمگر
    4. اَنْیہ کہ
    5. يَّشَآءَ اللّٰهُ ۭاللہ چاہے
    6. هُوَوہی
    7. اَهْلُ التَّقْوٰىڈرنے کے لائق
    8. وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِمغفرت کے لائق
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔41 وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے 42 اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے۔ 43
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُدَّثِّر 41 یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اسے نصیحت اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا، بلکہ ہر فعل اسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب خدا کی مشیت بندے کی مشیت سے مل جائے۔ یہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے جسے نہ سمجھنے سے انسانی فکر بکثرت ٹھوکریں کھاتی ہے۔ مختصر الفاظ میں اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر اس دنیا میں ہر انسان کو یہ قدرت حاصل ہوتی کہ جو کچھ وہ کرنا چاہے اللہ کی مشیت ساری مشیتوں پر غالب ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ اسی وقت کرسکتا ہے جبکہ اللہ بھی یہ چاہے کہ انسان کو وہ کام کرنے دیا جائے۔ یہی معاملہ ہدایت اور ضلالت کا بھی ہے۔ انسان کا محض خود ہدایت چاہنا اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ اسے ہدایت مل جائے، بلکہ اسے ہدایت اس وقت ملتی ہے جب اللہ اس کی اس خواہش کو پورا کرنے کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ اس طرح ضلالت کی خواہش بھی محض بندے کی طرف سے ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ جب اللہ اس کے اندر گمراہی کی طلب پا کر یہ فیصلہ کرد یتا ہے کہ اسے غلط راستوں میں بھٹکنے دیا جائے تب وہ ان راہوں میں بھٹک نکلتا ہے جن پر اللہ اسے جانے کا موقع دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چور بننا چاہے تو محض اس کی یہ خواہش اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ جہاں جس کے گھر میں گھس کر وہ جو کچھ چاہے چرالے جائے، بلکہ اللہ اپنی عظیم حکمتوں اور مصلحتوں کے مطابق اس کی اس خواہش کو جب اور جس قدر اور جس شکل میں پورا کرنے کا موقع دیتا ہے اسی حد تک وہ اسے پورا کرسکتا ہے۔ سورة الْمُدَّثِّر 42 یعنی تمہیں اللہ کی ناراضی سے بچنے کی جو نصیحت کی جا رہی ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ کو اس کی ضرورت ہے اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اس سے اللہ کا کوئی نقصان ہوتا ہے، بلکہ یہ نصیحت اس بنا پر کی جا رہی ہے کہ اللہ کا یہ حق ہے کہ اس کے بندے اس کی رضا چاہیں اور اس کی مرضی کے خلاف نہ چلیں۔ سورة الْمُدَّثِّر 43 یعنی یہ اللہ ہی کو زیب دیتا ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کی ہوں، جس وقت بھی وہ اپنی اس روش سے باز آجائے اللہ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کردیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی جذبہ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا کہ ان کے قصوروں سے وہ کسی حال میں در گزر ہی نہ کرے اور انہیں سزا دیے بغیر نہ چھوڑے۔
Tafheem-ul-Quran - 74 : 56