Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 1

Tafseer
  1. لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ﴿1﴾

    1. لَآ اُقْسِمُنہیں میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن کی
Translation · Tafheem-ul-Quran
نہیں، 1 میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقِیٰمَة 1 کلام کی ابتدا نہیں سے کرنا خود بخود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے سے کوئی بات چل رہی تھی جس کی تردید میں یہ سورة نازل ہوئی ہے اور آگے کا مضمون آپ ہی ظاہر کردیتا ہے کہ وہ بات قیامت اور آخرت کی زندگی کے بارے میں تھی جس کا اہل مکہ انکار کرر ہے تھے بلکہ ساتھ ساتھ مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ اس طرز بیان کو اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر آپ محض رسول کی صداقت کا اقرار کرنا چاہتے ہوں تو آپ کہیں گے " خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ لیکن اگر کچھ رسول کی صداقت کا انکار کر رہے ہوں تو آپ جواب میں اپنی بات یوں شروع کریں گے کہ " نہیں، خدا کی قسم رسول برحق ہے "۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہوں وہ صحیح نہیں ہے، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اصل بات یہ ہے۔