تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 74. Al-Muddaththir · Ayah 9
Tafseerفَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ﴿9﴾
- فَذٰلِكَتو وہ
- يَوْمَئِذٍاس دن
- يَّوْمٌ عَسِيْرٌبڑا دشوار دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا، 8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْمُدَّثِّر 8
جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں، اس سورة کا یہ حصہ ابتدائی آیات کے چند مہینے بعد اس وقت نازل ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علانیہ تبلیغ اسلام شروع ہوجانے کے بعد پہلی مرتبہ حج کا زمانہ آیا اور سرداران قریش نے ایک کانفرنس کر کے یہ طے کیا کہ باہر سے آنے والے حاجیوں کو قرآن اور محمد ﷺ سے بد گمان کرنے کے لیے پروپیگنڈا کی ایک زبردست مہم چلائی جائے۔ ان آیات میں کفار کی اسی کارروائی پر تبصرہ کیا گیا ہے اور اس تبصرے کا آغاز ان الفاظ سے کیا گیا ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ اچھا، یہ حرکتیں جو تم کرنا چاہتے ہو کرلو، دنیا میں ان سے کوئی مقصد براری تم نے کر بھی لی تو اس روز اپنے برے انجام سے کیسے بچ نکلو گے جب صور میں پھونک ماری جائے گی اور قیامت برپا ہوگی۔ (صور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، الانعام، حاشیہ 47۔ جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 57۔ جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 78۔ الحج، حاشیہ 1۔ جلد چہارم، یٰسین، حواشی 46۔ 47۔ الزمر، حاشیہ 79۔ جلد پنجم، ق، حاشیہ 52۔)