Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 27

Tafseer
  1. وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ﴿27﴾

    1. وَقِيْلَاور کہا جائے
    2. مَنْکون
    3. ۫رَاقٍجھاڑ پھونک کرنیوالا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھُونک کر نے والا، 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقِیٰمَة 19 اصل میں لفظ راق استعمال ہوا ہے جو رقیہ سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنی تعویز گنڈے اور جھاڑ پھونک کے ہیں، اور رتی سے بھی، جس کے معنی چڑھنے کے ہیں۔ اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر وقت میں جب مریض کے تیمار دار ہر دوا دارو سے مایوس ہوجائیں گے تو کہیں گے کہ ارے کسی جھاڑ پھونک کرنے والے ہی کو تلاش کرو جو اس کی جان بچا لے۔ اور اگر دوسرے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ اس وقت فرشتے کہیں گے کہ اس روح کو کسے لے کر جانا ہے ؟ ملائکہ عذاب کو یا ملائکہ رحمت کو ؟ بالفاظ دیگر اسی وقت یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ یہ مرنے والا کس حیثیت میں عالم آخرت کی طرف جا رہا ہے۔ نیک انسان ہوگا تو ملائکہ رحمت اسے لے جائیں گے، اور بد انسان ہوگا تو رحمت کے فرشتے اس کے قریب بھی نہ پھٹکیں گے اور عذاب کے فرشتے اسے گرفتار کر کے لے جائیں گے۔
Tafheem-ul-Quran - 75 : 27