تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 34
Tafseerاَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰىۙ﴿34﴾
- اَوْلٰى لَكَافسوس تجھ پر
- فَاَوْلٰىپس افسوس
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْقِیٰمَة 22
مفسرین نے اولی لک کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔ تف ہے تجھ پر۔ ہلاکت ہے تیرے لیے۔ خرابی، یا تباہی، یا کمبختی ہے تیرے لیے۔ لیکن ہمارے نزدیک موقع و محل کے لحاظ سے اس کا مناسب ترین مفہوم وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ " جب تو اپنے خالق سے کفر کرنے کی جرات کرچکا ہے تو پھر تجھ جیسے آدمی کو یہی چال زیب دیتی ہے جو تو چل رہا ہے " یہ اسی طرح کا طنزیہ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں ایک اور جگہ فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں عذاب دیتے ہوئے مجرم انسان سے کہا جائے گا کہ ذق انک انت العزیز الکریم " لے چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو "۔ (الدخان۔ 49)۔