تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 76. Al-Insaan · Ayah 11
Tafseerفَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ﴿11﴾
- فَوَقٰىهُمُپس انہیں بچالیا
- اللّٰهُاللہ نے
- شَرَّبُرائی
- ذٰلِكَ الْيَوْمِاس دن
- وَلَقّٰىهُمْاور انہیں عطا کی
- نَضْرَةًتازگی
- وَّسُرُوْرًااور خوش دلی
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سُرور بخشے گا 15
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدَّهْر 15
یعنی چہروں کی تازگی اور دل کا سرور۔ دوسرے الفاظ میں روز قیامت کی ساری سختیاں اور ہولناکیاں صرف کفار و مجرمین کے لیے ہوں گی، نیک لوگ اس دن ہر تکلیف سے محفوظ اور نہایت خوش و خرم ہوں گے۔ یہی بات سورة انبیاء میں بیان کی گئی ہے کہ " وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " (آیت 103) اور اسی کی صراحت سورة نمل میں کی گئی ہے کہ " جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے محفوظ ہوں گے "۔ (آیت 89)۔