تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 76. Al-Insaan · Ayah 22
Tafseerاِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ع﴿22﴾
- اِنَّبیشک
- هٰذَایہ
- كَانَہے
- لَكُمْتمہاری
- جَزَآءًجزا
- وَّكَانَاور ہوئی
- سَعْيُكُمْتمہاری سعی
- مَّشْكُوْرًامشکور (مقبول)
Translation · Tafheem-ul-Quran
یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابلِ قدر ٹھہری ہے۔ 26
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الدَّهْر 26
اصل الفاظ ہیں کان سعیکم مشکورا۔ یعنی تمہاری سعی مشکور ہوئی۔ سعی سے مراد وہ پورا کارنامہ حیات ہے جو بندے نے دنیا میں انجام دیا۔ جن کاموں میں اس نے محنتیں اور جن مقاصد کے لیے اس نے اپنی کوششیں صرف کیں ان سب کا مجموعہ اس کی سعی ہے اور اس کے مشکور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ قابل قدر قرار پائی۔ شکریہ جب بندے کی طرف سے خدا کے لیے ہو تو اس سے مراد اس کی نعمتوں پر احسان مندی ہوتی ہے، اور جب خدا کی طرف سے بندے کے لیے ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی خدمات کی قدر فرمائی۔ آقا کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ بندہ جب اس کی مرضی کے مطابق اپنا فرض انجام دے تو وہ اس کا شکریہ ادا کر۔