Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 78. An-Naba · Ayah 38

Tafseer
  1. یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا﴿38﴾

    1. يَوْمَجس دن
    2. يَقُوْمُ الرُّوْحُقیام کریں گے روح/ روح الامین
    3. وَالْمَلٰٓئِكَةُاور فرشتے
    4. صَفًّا ٷصف در صف
    5. لَّا يَتَكَلَّمُوْنَنہ کلام کرسکیں گے/ نہ بات کرسیں گے
    6. اِلَّامگر
    7. مَنْ اَذِنَجس کو اجازت دے
    8. لَهُاس کے لئے
    9. الرَّحْمٰنُرحمن
    10. وَقَالَ صَوَابًااور وہ کہے درست بات
Translation · Tafheem-ul-Quran
جس روز رُوح 24 اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ 25
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النَّبَا 24 اہل تفسیر کی اکثریت کا خیال یہی ہے کہ اس سے مراد جبرئیل ؑ ہیں اور ان کا جو بلند مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے اس کی وجہ سے ملائکہ سے الگ ان کا ذکر کیا گیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المعارج، حاشیہ 3)۔ سورة النَّبَا 25 بولنے سے مراد شفاعت ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ وہ صرف دو شرطوں کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایک شرط یہ کہ جس شخص کو جس گنہگار کے حق میں شفاعت کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی صرف وہی شخص اسی کے حق میں شفاعت کرسکے گا۔ دوسری شرط یہ کہ شفاعت کرنے والا بجا اور درست بات کہے، بےجا نوعیت کی سفارش نہ کرے، اور جس کے معاملہ میں وہ سفارش کر رہا ہو وہ دنیا میں کم از کم کلمہ حق کا قائل رہا ہو، یعنی محض گناہ کار ہو، کافر نہ ہو۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، البقرہ، حاشیہ 281، جلد دوم، یونس، حاشیہ 5، ہود، حاشیہ 106، جلد سوم، مریم حاشیہ 52، طہٰ ، حواشیہ 85۔ 86۔ الانبیاء حاشیہ 27۔ جلد چہارم، سبا، حواشی 40۔ 41۔ المومن، حاشیہ 32۔ الزخرف، حاشیہ 68۔ جلد پنجم، النجم، حاشیہ 21۔ جلد ششم، المدثر، حاشیہ 36)۔