تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 27
Tafseerءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ﴿27﴾
- ءَاَنْتُمْکیا تم
- اَشَدُّ خَلْقًازیادہ سخت ہو تخلیق میں
- اَمِ السَّمَآءُ ۭیا آسمان
- بَنٰىهَااس نے بنایا اس کو
Translation · Tafheem-ul-Quran
13 کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ 14 اللہ نے اُس کو بنایا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النّٰزِعٰت 13
اب قیامت اور حیات بعد الموت کے ممکن اور مقضائے حکمت ہونے کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
سورة النّٰزِعٰت 14
تخلیق سے مراد انسانوں کی دوبارہ تخلیق ہے اور آسمان سے مراد وہ پورا عالم بالا ہے جس میں بیشمار ستارے اور سیارے، بےحد و حساب شمسی نظام اور ان گنت کہکشاں پائے جاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم جو موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو کوئی بڑی ہی امر محال سمجھتے ہو، اور بار بار کہتے ہو کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہماری ہڈیاں تک بوسیدہ ہوچکی ہوں گی اس حالت میں ہمارے پراگندہ اجزائے جسم پھر سے جمع کردیے جائیں اور ان میں جان ڈال دی جائے، کبھی اس بات پر بھی غور کرتے ہو کہ اس عظیم کائنات کا بنانا زیادہ سخت مشکل کام ہے یا تمہیں ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد دوبارہ اسی شکل میں پیدا کردینا ؟ جس خدا کے لیے وہ کوئی مشکل کام نہ تھا اس کے لیے (آخر یہ کیوں ایسا مشکل کام ہے کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے ؟ حیات بعد الموت پر یہی دلیل قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دی گئی ہے۔ مثلاً سورة یسین میں ہے " اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین کو بنایا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو (پھر سے) پیدا کر دے ؟ کیوں نہیں، وہ تو بڑا زبردست خالق ہے، تخلیق کے کام کو خوب جانتا ہے " (آیت 81)۔ اور سورة مومن میں فرمایا " یقیناً آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے، مگر اکثر جانتے نہیں ہیں " (آیت 57)۔