تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 8. Al-Anfaal · Ayah 24
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿24﴾
- يٰٓاَيُّھَااے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اٰمَنُواایمان لائے
- اسْتَجِيْبُوْاقبول کرلو
- لِلّٰهِاللہ کا
- وَلِلرَّسُوْلِاور اس کے رسول کا
- اِذَاجب
- دَعَاكُمْوہ بلائیں تمہیں
- لِمَا يُحْيِيْكُمْاس کے لیے جو زندگی بخشے تمہیں
- وَاعْلَمُوْٓااور جان لو
- اَنَّکہ
- اللّٰهَاللہ
- يَحُوْلُحائل ہوجاتا ہے
- بَيْنَدرمیان
- الْمَرْءِآدمی
- وَقَلْبِهٖاور اس کا دل
- وَاَنَّهٗٓاور یہ کہ
- اِلَيْهِاس کی طرف
- تُحْشَرُوْنَتم اٹھائے جاؤگے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسول کی پکار پر لبیّک کہو جبکہ رسول ؐ تمہیں اُس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اُسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔ 19
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْاَنْفَال 19
نفاق کی روش سے انسان کو بچانے کے لیے اگر کوئی سب سے زیادہ موثر تدبیر ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ وہ عقیدے انسان کے ذہن نشین ہوجائیں۔ ایک یہ کہ معاملہ اس خدا کے ساتھ ہے جو دلوں کے حال تک جانتا ہے اور ایسا رازدان ہے کہ آدمی اپنے دل میں جو نیتیں، جو خواہشیں، جو اغراض و مقاصد اور جو خیالات چھپا کر رکھتا ہے وہ بھی اس پر عیاں ہیں۔ دوسرے یہ کہ جانا بہرحال خدا کے سامنے ہے۔ اس سے بچ کر کہیں بھاگ نہیں سکتے۔ یہ وہ عقیدے ہیں کہ جتنے زیادہ پختہ ہوں گے اتنا ہی انسان نفاق سے دور رہے گا۔ اسی لیے منافقت کے خلاف وعظ و نصیحت کے سلسلہ میں قرآن ان دو عقیدوں کا ذکر بار بار کرتا ہے۔